اہلِ سنت و جماعت کے مسلمہ عقائد و نظریات | مشترکہ اعلامیہ | عقائد اہل سنت | معمولات اہل سنت مشترکہ اعلامیہ جاری | اعلامیہ 2026 | مفتی منیب الرحمن زید مجدہ

اہلِ سنت و جماعت کے مسلمہ عقائد و نظریات کی حفاظت، فتنوں کے سدِ باب اور دینی افادۂ عام کے لیے پاکستان کے جلیل القدر اکابر علمائے کرام اور مشائخِ عظام کا ایک اہم اور تاریخی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی منیب الرحمن صاحب (دارالعلوم جامعہ نعیمیہ، کراچی)، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور، جامعہ نعیمیہ لاہور، دربارِ عالیہ حضرت داتا گنج بخش، دارالعلوم امجدیہ کراچی، اور جامعہ انوار القرآن کے ممتاز شیوخ و مفتیانِ کرام نے شرکت کی اور باہمی مشاورت کے بعد ایک متفقہ بیانیہ "عقائد و معمولاتِ اہل السنت" مرتب کر کے فائنل کیا۔ اس تاریخی دستاویز کو 17 اکتوبر 2026ء کو حتمی شکل دی گئی اور 19 اکتوبر 2026ء کو دربارِ عالیہ گولڑہ شریف میں اس کی مفصل خواندگی اور توثیق کی گئی۔ بعد ازاں، مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی منیب الرحمن صاحب نے 22 اکتوبر 2026ء کو اپنے آفیشل فیس بک پیج پر تمام اکابرین و مشائخِ عظام کے دستخطوں اور مہروں سے مزین اس متفقہ اعلامیے کو عوامِ اہل سنت کی رہنمائی کے لیے باقاعدہ شائع اور اپلوڈ کیا۔ ذیل میں اس تاریخی و متفقہ اعلامیے کا اصل اور مکمل متن پیشِ خدمت ہے:

الْحَمْدُ لِلّٰہِ تَعَالٰی اَہْلُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ ان ہی عقائد و نظریات کے حامل ہیں جو تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ نے بنفسِ نفیس اہل بیتِ عظام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو عطا فرمائے تھے۔ آج کے اس دورِ فتن میں آئے دن نئے نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں۔ بعض اہل علم اَہْلُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ کے مسلمہ عقائد کے خلاف کلام فرماتے ہیں، جس سے علماء و عوامِ اہل سنت تشویش میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے میں سنجیدہ فکر صاحبانِ علم و فضل کی طرف سے ان فتنوں کے سدِ باب کے لیے سلفِ صالحین کے متوازن اور پختہ عقائد پر مشتمل بیانیہ افادۂ عام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ اَہْلُ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ کے تمام مشائخِ عظام، علمائے کرام، ائمۂ مساجد، اساتذۂ مدارس اور عوامِ اہل سنت اس اعلامیے پر دل و جان سے کاربند رہیں گے اور ہر قسم کی افراط و تفریط سے اجتناب کریں گے، مندرجہ ذیل عقائد قرآن و سنت سے ثابت ہیں اور قرونِ اولیٰ سے لے کر عہدِ حاضر تک جمیع سلاسلِ طریقت کے اولیائے کرام اور صلحائے عظام کے متفقہ عقائد بھی یہی رہے ہیں:

اُلوہیت

 اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک ہے، اس کی ذات، صفات، اسماء، افعال اور احکام میں کوئی اس کا ہمسر اور شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام عیوب سے منزّہ و مبّرا، جسم و جسمانیت اور اس کے تمام عوارض سے پاک ہے اور تمام عظمتوں کا مالک ہے۔ علمِ ازلی اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے، جو شخص کسی چیز کا بھی علمِ ذاتی اللہ کے غیر کے لیے ثابت کرے، وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ زمان، مکان، جہت، حرکت و سکون، شکل و صورت اور جسم سے پاک ہے۔ تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، لیکن برے افعال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا جائز نہیں ہے۔

نبوت و رسالت

 تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کو نبوت عالمِ ارواح میں سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے عطا فرمائی گئی، اسی کے اعتبار سے آپ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ اول الانبیاء ہیں، آپ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ بے پیدا ئشی نبی ہیں، البتہ حکمتِ الٰہی کی بنیاد پر آپ کی تشریعی نبوت کا اعلان 40 برس کی عمر میں ہوا۔ تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کی حدیث اور سنت، قرآنِ کریم کے بعد دوسرا ماخذ و مصدرِ تشریع اور حجت و سند ہے۔ نبوت کے انقطاع، زوال اور سلب کا امکان ماننا کفر ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں، ان کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہے جس کی وجہ سے ان سے صدورِ گناہ شرعاً محال اور ناممکن ہے، کیونکہ نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے، یہ عصمت نبی اور فرشتہ کا خاصہ ہے، نبی اور فرشتہ کے علاوہ کوئی معصوم نہیں، اماموں کو انبیائے کرام کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بے دینی ہے، عصمتِ انبیاء کا مطلب یہ کہ ان سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اعلانِ نبوت کے بعد صغائر و کبائر سے مطلقاً اور اعلانِ نبوت سے پہلے کبائر سے مطلقاً اور صغائر سے تعمداً معصوم ہیں۔ انبیائے کرام تشریعی اور تبلیغی امور میں مطلقاً خطا کے صدور اور سہو و نسیان سے پاک رہتے ہیں۔ ان کے اجسامِ منورہ جذام، برص، جلدی بیماری (Skin Disease) اور ایسے تمام عوارض سے محفوظ ہوتے ہیں، جن میں دناءت اور خست ہو اور جن سے عام لوگوں کو گھن آئے اور کراہت محسوس کریں، البتہ عام بیماریاں جیسے بخار، زکام وغیرہ انسانی عوارض ہیں اور باعثِ عیب نہیں ہیں۔ غیرِ نبی ہرگز نبی کے برابر نہیں ہو سکتا، بلکہ غیرِ نبی کو نبی سے افضل یا برابر ماننا کفر ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے درمیان تقابل و تفاضل اس انداز سے بیان کرنا جس سے دوسرے نبی کی توہین و تنقیص کا ایہام ہو، ہرگز جائز نہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے مابین درجات و مراتب میں تفاضل موجود ہے اور سب سے افضل ہمارے آقا ومولیٰ تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ ہی ہیں۔

نبی کی تعظیم و تکریم تمام فرائض کی اصل ہے، کسی بھی نبی کی ادنیٰ سی تحقیر، تنقیص اور تکذیب بھی کفر ہے۔   قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے ترجمہ اور نفسِ مسئلہ کی تفہیم کے علاوہ عوام میں انبیائے کرام کی زلاّت یا ان پر عتابِ الٰہی کا ذکر کرنا حرام ہے۔   سیدنا محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے سب سے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کی تشریف آوری کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہو گیا، آپ کے بعد کوئی نیا مستقل، ظلی، بروزی، تشریعی یا غیر تشریعی، تبشری یا امتی نبی نہیں آ سکتا، جو شخص کسی بھی عنوان سے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو بدبخت اس کے دعوے کو سچا تسلیم کرے یا ایسے جھوٹے مدعیِ نبوت کو مسیح موعود، مہدی موعود یا محض مسلمان سمجھے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔

   فرشتہ

فرشتے نوری مخلوق ہیں، ہر قسم کے صغائر و کبائر سے مطلقاً پاک ہیں۔   کسی فرشتے کی ادنیٰ سی گستاخی کرنا کفر ہے، اپنے دشمن کو ملک الموت یا عزرائیل کہنا کفر ہے۔   سیدنا عزرائیل علیہ السلام سے روحوں کی زنبیل چھیننے اور الٹ دینے کی حکایت باطل ہے۔ 

 آسمانی کتب

اسلام دینِ حق ہے، تمام صحائف اور کتبِ سماویہ اپنی اصل کے اعتبار سے حق ہیں، قرآنِ حکیم کے سوا ان میں تحریفِ لفظی اور معنوی ہو چکی ہے۔   قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتاب ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کے قلبِ اطہر پر نازل ہوئی، یہ ہر طرح کے تغیّر، تبدّل اور تحریف سے منزّہ ہے۔   قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، کلامِ نفسی تمام مخلوقِ الٰہی سے افضل ہے۔   حیات بعد الموت، برزخی زندگی، ثواب و عذابِ قبر، حشر و نشر اور جنت و دوزخ حق ہیں۔

  اہل بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین

سیدنا محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مطہرات، بناتِ طیبات، صاحبزادگان، سیدنا مولا علی، سیدنا امام حسن مجتبیٰ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہم اجمعین اہل بیتِ نبوت ہیں اور اہل بیتِ نبوت کی تعظیم و تکریم، ادب و احترام اور محبت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، نیز اہل بیتِ نبوت کی بے ادبی، استخفاف، استہزاء اور اہانت حرام اور ناصبیت ہے۔   صحابہ کرام اور اہل بیتِ نبوت کا آپس میں توقیر و تعظیم اور ادب و محبت کا تعلق تھا۔   قضیۂ فدک میں سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اور سَیِّدَۃُ نِسَاءِ الْعَالَمِیْنَ وَ سَیِّدَۃُ نِسَاءِ الْجَنَّۃِ فَاطِمَۃُ الزَّہْرَاءِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا دونوں حق پر تھے، ان میں کوئی بھی خطا و گناہ پر نہ تھا، لہٰذا اس صورت میں کسی بھی ہستی پر خطا و گناہ یا غلطی کا اطلاق کرنا درست نہیں ہے۔   اہل بیتِ نبوت اور صحابہ کرام کے مابین ایسا تقابل و تفاضل جس میں صَرَاحَۃً، اِشَارَۃً، کِنَایَۃً، تَعْرِیْضًا اور تَوْرِیَۃً کسی ایک طبقے کی بے احترامی اور تحقیر کا پہلو نکلتا ہو، بد نصیبی، رافضیت، خارجیت و ناصبیت ہے اور یہ ہرگز اہل سنت کا شعار نہ تھا، نہ ہے اور نہ رہے گا۔

صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ

صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن َکی تعظیم و توقیر، ادب و احترام اور محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔   صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن َکے مابین مراتب و فضائل کے لحاظ سے یقیناً تفاوت موجود ہے، مگر سب یقینی اور قطعی جنتی ہیں، سب نجومِ ہدایت ہیں اور عادل ہیں، کسی بھی صحابی کی توہین، تحقیر، تخفیف اور استہزاء حرام اور رافضیت ہے۔   غیر صحابی اگرچہ ولایت کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز ہو، ہرگز ہرگز کسی صحابی کے برابر نہیں ہو سکتا۔   سیدنا محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کے بعد سیاسی و روحانی خلیفۂ برحق، امامِ مطلق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، پھر سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ،پھر سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، پھر سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، پھر چھ ماہ کے لیے سیدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ہوئے، ان حضرات کو خلفائے راشدین اور ان کی خلافت کو خلافتِ راشدہ کہتے ہیں، انہوں نے تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کی سچی نیابت کا پورا حق ادا کیا، ان میں تفصیل وتفاضل کی ترتیب یہی ہے، البتہ صحابہ کرام کے اپنے اپنے امتیازات ہیں اور مولائے کائنات علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے تمیزات و تمخصصات بلا شبہ بہت زیادہ ہیں۔   تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد افضلِ مطلق سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے لیے ہے، جیسا کہ امام ربانی، امام احمد رضا، تاجدارِ گولڑہ اور تمام اکابرِ اہل سنت نے اس مسئلے کی مکمل صراحت اپنی کتب میں فرمائی ہے۔   سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ کی خلافت بر ترتیبِ افضلیت ہے، یعنی جو عند اللہ افضل و اعلیٰ و اکرم تھا، وہی پہلے خلافت پا گیا کہ خلافت بر ترتیبِ خلافت ہوئی۔   سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کے پرورش دہ چچازاد بھائی، خلیفۂ راشد اور بے شمار فضیلتوں کے حامل ہیں، مگر ان کی افضلیتِ مطلقہ کا عقیدہ مذہبِ اہل سنت نہیں ہے۔   سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اور سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے درمیان اس انداز سے تقابل جس سے ان میں سے کسی ایک کی تنقیص لازم آئے، ہرگز روا نہیں ہے۔   اہل بیتِ اطہار اور جمیع صحابہ کرام و صحابیات رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ میں سے کسی ایک کی بھی عزت و عظمت کے خلاف صراحۃً یا اشارۃً طعن و تشنیع کرنے والا عقائدِ اہل سنت کے خلاف، قابلِ مؤاخذہ اور گمراہ ہے۔   کسی بھی صحابی کی قبل از اسلام زندگی کو بنیاد بنا کر ان پر زبانِ طعن دراز کرنا ناجائز ہے، جن کے ایمان کو سیدنا محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ نے قبول فرما لیا، وہ صحابی ہونے کی بنیاد پر قابلِ احترام ہیں، جو بدنصیب ازواجِ مطہرات، آلِ پاک اور صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ میں سے کسی کی شان میں گستاخی کرے اور ان کی دل آزاری کرے، وہ اہل سنت سے خارج اور اس کا انجام برا ہے۔   مشاجرات و اختلافاتِ صحابہ میں طعن و تشنیع سے کفِ لسان یعنی زبان کو روک رکھنا لازم و ضروری ہے اور اس پر منفی انداز میں بحث و تمحیص اسلام کے اجتماعی مزاج کے خلاف ہے، جن مسائل میں بزرگانِ دین نے توقف فرمایا، وہاں سکوت لازم ہے، ان کے مناقب اور شان بیان کرنا شعارِ اہل سنت ہے۔   کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بد مذہبی، گمراہی اور استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ سیدنا محمد رسول اللہ خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ بغض ہے، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفائے کرام کو مانے اور اپنے آپ کو سنی کہے۔   سیدنا امیر معاویہ، ان کے والدِ گرامی سیدنا ابو سفیان، سیدہ ہند، سیدنا عمرو بن العاص، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا وحشی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُم میں سے کسی کی شان میں گستاخی تبرا ہے اور یہ رافضیوں کا شعار ہے۔   سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مجتہد و درجۂ اجتہاد پر فائز تھے، مجتہد سے خطا اور صواب دونوں صادر ہوتے ہیں، سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کا سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے خلاف آنا ان کی خطائے اجتہادی تھی، اس میں فیصلہ وہی ہے جو نبی کریم خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ نے خود فرما دیا کہ تائیدِ حق سیدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ُکے ساتھ ہے اور سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے لیے بخشش و مغفرت ہے۔

ولایت

ولایت وہبی امر ہے، یہ فقط اعمالِ شاقہ سے حاصل نہیں ہوتی، البتہ اعمالِ صالحہ اس عطیۂ الٰہی کا ذریعہ ہوتے ہیں، بعضوں کو ولایت ابتداءً مل جاتی ہے۔   سجادہ نشینوں پر علومِ دینیہ کا حاصل کرنا بے حد ضروری ہے، مسندِ سجادگی پر فائز شخص اور مرشدِ طریقت کے لیے متشرع، متدین اور صاحبِ علم ہونا ضروری ہے۔   جاہل اور شریعت کے مخالف پیرزادوں اور سجادہ نشینوں کو پوری دل سوزی اور اخلاص سے علمِ دین حاصل کرنے اور شریعت کی پابندی کی تلقین و ترغیب دینا علمائے کرام کی اولین ذمہ داری ہے۔   ولایت کے اعلیٰ مراتب و مدارج کے حامل نفوسِ قدسیہ کبائر کے صدور سے محفوظ رہتے ہیں، یعنی اگر کسی کبیرہ کا ان سے ارتکاب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو موت سے پہلے توبۂ مقبول کی توفیق عطا فرماتا ہے۔   اولیائے کرام کی زندگی میں اور بعد از وصال استمداد و استعانت، ان کی ذواتِ مقدسہ سے جائز ہے کہ یہ سب توسل کی صورتیں ہیں، مگر مستعان بالذات صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔   اولیائے کرام سے منسوب شطحیات اور حالتِ سکر اور جذب میں صادر ہونے والے کلمات کی اگر جائز تاویل نہ ہو سکے تو وہ لائقِ التفات نہیں ہوں گے۔   طریقت ہرگز شریعت کی مخالف نہیں، شریعت کی خلاف ورزی زندقہ و لادینیت ہے۔   تصوف اسلام کا اہم شعبہ ہے اور حدیثِ جبریل کی رو سے احسان و عرفان اور تزکیۂ نفس کی اہمیت ایمان و اسلام کے بعد مسلم ہے۔ جمیع سلاسلِ طریقت کے مشائخِ کرام واجب الاحترام ہیں، ان کی تعلیمات حق اور واجب التسلیم ہیں، تصوف کو دین کے متوازی (الگ مذہب) کہنے والوں کی فکر مبنی بر خطا و گناہ ہے۔   دعا صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے، انبیائے کرام اور اولیائے عظام کے وسیلے سے دعا کرنا آدابِ دعا میں سے ہے۔   یزید پلید عَلَیْہِ مَا یَسْتَحِقُّہٗ مِنَ الْعَزِیْزِ الْمَجِیْدِ قَطْعًا یَقِیْنًا باجماعِ اہل سنت فاسق، فاجر اور جری علی الکبائر تھا، اس قدر پر ائمۂ اہل سنت کا اتفاق و اتفاق ہے۔ صرف اس کی تکفیر اور لعن میں فقہی احتیاط کی بنا پر اختلاف ہے۔ ہمارے امامِ اعظم سیدنا ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اس کے لعن اور کفر پر کفِ لسان فرمایا، جبکہ امام احمد بن حنبل رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اور ان کے اتباع و موافقین اسے کافر کہتے ہیں اور اس پر لعن کو جائز قرار دیتے ہیں۔

   معمولات

ذاتِ رسالت مآب خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ سے متعلق ایامِ مبارکہ (میلاد النبی اور معراج النبی)، نیز اہل بیتِ کرام، امہات المؤمنین و صحابۂ کرام، اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے اعراسِ مبارکہ اور ایام منانا اہل سنت کا شعار ہے، لیکن کوئی نہ منائے تو وہ اہل سنت سے خارج نہیں ہوگا اور نہ اسے مطعون کیا جائے گا۔ البتہ جو ان شعائر کو بدعت قرار دے گا، وہ اہل سنت سے خارج ہوگا۔ میلاد النبی خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ شرعی احتیاط کے ساتھ منانا تو ہمیشہ سے اہل سنت کا شعار رہا ہے، لیکن ماضی قریب میں اپنے اپنے پیرانِ کرام کے میلاد منانے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، یہ حکمتِ دین کے منافی ہے اور اس سے احتراز اولیٰ ہے، کوئی انفرادی طور پر کرنا چاہے تو ممانعت نہیں ہے، لیکن اسے اجتماعی رنگ دینے سے اجتناب برتنا چاہیے۔ ان معمولات کی ادائیگی میں شرعی امور کا لحاظ ضروری ہے، خصوصاً نمازِ باجماعت کی ادائیگی صحیح العقیدہ امام کی اقتدا میں ادا کرنا لازم و ضروری ہے، بزرگوں اور اہل ایمان کی ارواح کو ایصالِ ثواب کرنا مستحسن عمل ہے، البتہ ایصالِ ثواب، دعائے مغفرت اور کلماتِ خیر فوت شدہ اہلِ ایمان افراد سے مشروط ہے۔ عقائدِ اہل سنت کا مفصل ذکر اہل سنت کے عقائد کی کتبِ معتبرہ میں موجود ہے، مثلاً: فِقْہُ الْاَکْبَرِ، عَقِیْدَۂ طَحَاوِیَّہ، شَرْحُ الْعَقَائِدِ النَّسَفِیَّہ، اَلْمُسْتَنَدُ الْمُعْتَمَدُ، بَہَارِ شَرِیْعَت وغیرہ۔

میں حلفاً مکمل شرحِ صدر کے ساتھ مندرجہ بالا جملہ عقائد و نظریات کا حامل ہوں۔ میری کسی تحریر یا تقریر میں ان کا خلاف صادر ہوا تو میں غیر مشروط طور پر خلوصِ دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ اقدم میں توبہ اور رجوع کرتا ہوں اور صمیمِ قلب سے بارگاہِ الٰہی میں وعدہ کرتا ہوں کہ تا دمِ آخر ان عقائد و نظریات اور معمولات پر کاربند رہوں گا۔ اگر آئندہ کبھی مجھ سے ان کا خلاف صادر ہوا اور کسی صاحبِ علم نے مجھے اس کی طرف توجہ دلائی تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کا شرعی ازالہ کروں گا۔   میں خلوصِ دل سے یہ بھی عہد کرتا ہوں کہ جو شخص تقصیراً، تحریراً یا عملاً ان عقائد و نظریات اور معمولات سے انحراف کرے گا، تو اولاً میں پورے اخلاص کے ساتھ احسن طریقہ سے اسے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا، اگر سمجھانے سے وہ راہِ راست پر آ گیا تو تہہِ دل سے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کروں گا، بصورتِ دیگر "الحُبُّ لِلہِ وَالْبُغْضُ لِلہِ" کے مصداق اس کی دوستی سے اجتناب کروں گا۔

   یا الٰہ العالمین! مجھے تقدیسِ الوہیت، تعظیمِ رسالت، توقیرِ نبوت، تعظیمِ اہل بیت، تکریمِ صحابۂ کرام، تحریمِ اولیائے کرام پر مشتمل عقائد و معمولات پر زندہ رکھ اور انہی پر موت عطا فرما۔ جب میری روح قفسِ عنصری سے پرواز کرے تو چہرۂ انور خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کی زیارت اور کلمۂ شہادت پڑھنے کی سعادت عطا فرما، قبر میں تاجدارِ کائنات خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلٰٓى اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَسَلَّمَ کی معرفت اور حشر میں لِواءُ الْحَمْد کے سایہ تلے پناہ اور شفاعتِ کبریٰ نصیب فرما، آمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَالتَّسْلِیْمَاتِ - اَللّٰہُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ، وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ، اَللّٰہُمَّ اہْدِنَا سَبِیْلَ الرَّشَادِ وَقَوْلَ الْحَقِّ وَفَصْلَ الْخِطَابِ۔

 

0 Post a Comment:

Post a Comment

Thanks for Visiting Us. آپ اپنی بہترین رائے سے ہماری حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں، اور کام میں مزید بہتری کے لیے ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ بس ایک کمنٹ کر دیں شکریہ