تحقیق، سیرت اور فکرِ عصر: المعین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نمایاں منصوبے | Al Moeen Research Institute’s Major Projects

Al Moeen Research Institute for Islamic Ideology

 ہر دور کے اپنے فکری، سماجی اور اعتقادی چیلنجز ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اسلام کو محض عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے یا پھر جدید افکار کے نام پر اس کی اصل روح سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں علمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق، بصیرت اور فکری توازن کے ساتھ اسلام کی درست تعبیر پیش کریں۔

 Al Moeen Research Institute for Islamic Ideology اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت درج ذیل اہم پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے:

 

📖 1. سیرت النبی ﷺ پر جامع تحقیقی کتاب (نبی کریم ﷺ کی سماجی زندگی کے تناظر میں)

وضاحت:       اس پراجیکٹ میں رسول اللہ ﷺ کی عام سماجی زندگی—گھر، بازار، معاشرہ، غیر مسلموں سے معاملات، بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے ساتھ برتاؤ—کو تحقیقی انداز میں پیش کیا جائے گا۔

 ضرورت و اہمیت:       آج کی دنیا کو ایک ایسے عملی نمونے کی ضرورت ہے جو عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی زندگی میں بھی قابلِ تقلید ہو، اور سیرتِ نبوی ﷺ اس کی کامل مثال ہے۔

 

📚 2. عصری الحادی فکر کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ (جامع کتاب کی صورت میں)

 وضاحت:      اس پراجیکٹ میں جدید الحادی افکار، سیکولرزم، نیچرلزم اور مذہب بیزاری کے فکری اسباب کا علمی و مدلل تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

 ضرورت و اہمیت:          نوجوان نسل فکری سطح پر شدید سوالات کا سامنا کر رہی ہے، جن کے جواب جذبات نہیں بلکہ تحقیق اور دلیل سے دیے جانے کی ضرورت ہے۔

 

🎥 3. یوٹیوب چینل پر آن لائن تعلیمی پروگرام :

وضاحت:     تحقیقی، فکری اور تعلیمی موضوعات پر منظم آن لائن پروگرامز، لیکچرز اور گفتگوؤں کا انعقاد۔

 ضرورت و اہمیت: ڈیجیٹل میڈیا آج سب سے مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے علمی پیغام وسیع حلقے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

 

🔴 4. عصری الحادی فکر پر ہفتہ وار لائیو سیشنز

وضاحت: ہر ہفتے لائیو سیشنز جن میں الحاد، شکوک و شبہات اور جدید فکری اعتراضات پر براہِ راست گفتگو اور سوال و جواب ہوں گے۔

 ضرورت و اہمیت: براہِ راست مکالمہ نوجوانوں کے ذہنی سوالات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ناگزیر ہے۔

 

📜 5. یوٹیوب پر ماہانہ حدیثِ مبارکہ سیشنز

 وضاحت: ہر ماہ منتخب احادیث کی تشریح، پس منظر اور عملی تطبیق پر تحقیقی نشستیں۔

 ضرورت و اہمیت:       حدیثِ نبوی ﷺ کو محض روایت نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

 

️ 6. یوٹیوب پر ماہانہ ’’مزاجِ اسلام‘‘ سیشنز

وضاحت:      اسلام کے فکری، اخلاقی اور اعتدالی مزاج پر گفتگو، تاکہ دین کو انتہاؤں سے ہٹ کر سمجھا جا سکے۔

 ضرورت و اہمیت:       آج اسلام کو یا شدت پسندی سے جوڑا جاتا ہے یا بے روح بنا دیا جاتا ہے—جبکہ اصل اسلام توازن اور حکمت کا دین ہے۔

 

🌱 اختتامی کلمات

 ہم یقین رکھتے ہیں کہ:    تحقیق، اخلاص اور فکری دیانت ہی امت کی حقیقی خدمت ہے۔ ہم تمام اہلِ علم، طلبہ اور فکری شعور رکھنے والے افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ اس علمی سفر کا حصہ بنیں۔

 

The Existence of Allah: Evidence from the Holy Qur’an, Ilm al-Kalam, and Philosophical Arguments

تحقیق و تدوین: زین العابدین  (پی ایچ ڈی سکالر، المعین ریسرچ انسٹیٹیوٹ  فار اسلامک آئیڈیالوجی، لاہور)

وجودِ باری تعالیٰ قرآن مجید، علمُ الکلام اور فلسفیانہ دلائل کی روشنی میں

قرآن دلیل دیتا ہے یا یاد دلاتا ہے؟

یہ بات پہلے طے کر لی جائے کہ قرآن، یونانی منطق کی طرح خدا کو ثابت نہیں کرتا بلکہ قرآن انسان کو اس کے بھولے ہوئے علم کی طرف واپس لاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کا اسلوب کہتا ہے:  اَفَلَا تَعْقِلُونَ – اَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ – اَفَلَا يَنْظُرُونَ  یہ زبان علم الکلام کی ہے، یہ اسلوب فلسفۂ فطرت کا ہے اور یہ اپیل عقلِ سلیم کی ہے۔

 اوّلین دلیل: دلیلِ حدوثِ عالم:  قرآن سوال قائم کرتا ہے، مقدمہ نہیں: اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ (سورۃ الطور:۳۵) (کیا یہ بغیر کسی سبب کے پیدا ہو گئے؟ یا خود اپنے خالق ہیں؟) یہ آیت ایک مکمل منطقی قیاس ہے۔

 کبریٰ (Major Premise): ہر حادث (جو نہ تھا پھر ہوا) کسی مُحدِث کا محتاج ہے۔

 صغریٰ (Minor Premise): کائنات حادث ہے (تغیر، زمان، ترکیب، زوال اس پر شاہد ہیں)۔

 نتیجہ (Conclusion): کائنات کا ایک غیر حادث، قدیم، واجب الوجود مُحدِث ہے ۔

 یہی دلیل امام ابوالحسن اشعری، امام ماتریدی اور امام غزالی کے علم الکلام کی بنیاد ہے۔

دوسری دلیل: دلیلِ امکان و احتیاج (Contingency Argument):      قرآن اعلان نہیں، تجزیہ کرتا ہے: یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (سورۃ الفاطر: 15) فلسفیانہ مفہوم: ہر ممکن الوجود، محتاج ہوتا ہے، محتاج خود قائم نہیں رہ سکتا اور تسلسلِ علل (Infinite Regress) محال ہے ۔ لہٰذا ایک ایسی ہستی لازم ہے جو غنی بذاتہ ہو ، جو علت نہ ہو بلکہ علتِ اولیٰ ہو یہی ہے: اللہُ الصَّمَد(سورۃ  الاخلاص:۲)۔

تیسری دلیل: دلیلِ نظم (Teleological Argument):   قرآن مشاہدہ پیش کرتا ہے: مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ (سورۃالملک: 3) منطقی نکتہ: نظم بغیر علم کے ممکن نہیں ، تناسب بغیر قصد کے نہیں ہوتا ، مقصد بغیر ارادے کے پیدا نہیں ہوتا لہٰذا یہ کائنات Blind Chance نہیں بلکہ Wise Choice کا نتیجہ ہے۔

 چوتھی دلیل: دلیلِ وحدانیت (Argument against Polytheism):  قرآن ایک عقلی فرضی صورت قائم کرتا ہے: لَوْ كَانَ فِیْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا(سورۃ الأنبیاء: 22) فلسفیانہ تجزیہ: دو مستقل ارادوں سے تصادم پیدا ہوتا ہے اور تصادم فساد  کا ہونا لازم آتا ہے اور کائنات کے نظم میں  فساد کا نہ ہونا ہی وحدتِ ارادہ   اور نظم واحد کی دلیل ہےجس کا مطلب  اور نتیجہ ہے کہ  مدبر واحد موجود ہے اور وہ تنہا و یکتا ہے۔

 پانچویں دلیل: دلیلِ فطرت (Innate Knowledge Argument) :     قرآن کہتا ہے: فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاسورۃالروم: 30)۔ امام غزالی فرماتے ہیں: "  وجود خدا بدیہی ہے، نظری نہیں " شک تعلیم سے آتا ہے، یقین فطرت سے” اسی لیے بچہ خدا کو جانتا ہے ، فلسفہ بعد میں آ کر انکار سکھاتا ہے۔

 چھٹی دلیل: دلیلِ نفس و شعور (Argumentfrom Consciousness):               قرآن سوال کرتا ہے: وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (سورۃالذاریات: 21 )۔         فلسفیانہ نکتہ: مادہ شعور نہیں رکھتا ۔ شعور، ارادہ اور اخلاق محض کیمیاوی تعامل نہیں لہٰذا انسان کا باطن ایک غیر مادی، علیم خالق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔

قرآنی اسلوب کی عظمت (اہم نکتہ) قرآن خدا کو دلیل سے گھڑتا نہیں ۔ خدا کو مفروضہ بنا کر ثابت نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے: تم جانتے ہو، بس یاد کرو   سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِهِمْ (سورۃفصّلت: 53)

 اختتامیہ: علم الکلام کا خلاصہ ایک جملے میں کائنات کا ہونا اس کے نہ ہونے سے زیادہ اللہ تعالی کے ہونے کو لازم کرتا ہے یہی عقل کا فیصلہ ،فطرت کی گواہی، قرآن کا اسلوب اور متکلمین کا طریقہ ہے۔