علامہ ابن خلدون کے سیاسی افکار | The political thoughts of Allama Ibn Khaldun

علامہ ابن خلدون کے سیاسی افکار موجودہ پاکستانی حالات کے تناظر میں

علامہ ابن خلدون نے عمرانیات پر بہت کام کیا ہے ریاست و سلطنت کے حصول و قیام اور استحکام کے لیے بہت سے ایسے اصل دیے ہی جنہیں پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے گویا علامہ ہمارے علاقے کی ہی سیاست کو بیان کر رہے ہی۔بعض لوگوں نے ضرور تنقید کی ہے کہ مشاہدات فقط بنو عباس اور بربر قوم کےمتعلق ہی ہیں لیکن بہر حال علامہ ابن خلدون نے ان مشاہدات کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ وہ مشاہدات لازوال اصول بن کر ہمارے سامنے آتے ہی۔ اپنی اس تحقیق میں ،میں نے علامہ ابن خلدون کے سیاسی افکار کا مطالعہ پاکستانی موجودہ حالات کے تناظر می پیش کیا ہے اور اس پر علامہ کے تجربہ کی روشنی میں اپنے مسائل کے حل کی تجاویز پیش کی ہی۔ یہ موضوع خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں علامہ ابن خلدون کے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں ہم اپنے علاقے کی تنزلی کے اسباب جاننے کی کوشش کریں گے اور ان کے حل کے لیے علامہ کی تجاویز کا جائزہ لیں گے۔

آرٹیکل تحریر: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

The political thoughts of Allama Ibn Khaldun in the context of current Pakistani conditions

The article relates Ibn Khaldun's theories to the current context of Pakistan, observing parallels between his emphasis on ethical governance and the nation's present challenges. It underscores the importance of adopting ethical values, promoting social cohesion, and ensuring just governance as critical for the nation's progress and stability. By examining Ibn Khaldun's insights, the article underscores their relevance to Pakistan's socio-political landscape, advocating for a renewed emphasis on ethical governance and social cohesion to foster the country's development.

مکمل آرٹیکل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں

ریسرچ جرنل کی ویب سائٹ کے لیے کلک کریں

 

عدمِ موالات اور بین المذاہب تعلقات: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مطالعہ | Non-Allegiance and Interfaith Relations: A Quranic and Prophetic Perspective )Abstratct)

عدمِ موالات اور بین المذاہب تعلقات: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مطالعہ

اسلام جہاں ایک مسلمان کو اسلامی شعائر اور دینی فرائض کی بجا آوری کا حکم دیتا ہے وہیں معاشرے میں آباد انسانوں کے ساتھ حسن معاشرت اور باہمی محبت اور احترام کی تلقین بھی کرتا ہے۔  ایک تکثیری معاشرے میں دیگر مذاہب سےتعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک مسلمان کا رویہ  کیسا ہونا چاہیے؟ قرآن و حدیث اور سنت نبوی ﷺ اور تعامل صحابہ سے واضح راہنمائی ملتی ہے۔ اس صورت حال میں اسلام کی طرف سے دی گئی راہنمائی اور تعلیمات کے مجموعے کو موالات و عدم موالات کے تصور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔  موجوٍدہ دور میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے  درمیان باہمی ربط بالخصوص غیرمسلم ممالک میں مسلمانوں کے رہائش اور غیرمسلموں کے ساتھ  تعلقات کی وجہ سے اس تصور کا مطالعہ نہایت ضروری امر ہے ۔بعض لوگ عدم موالات کے تصور کو مکمل قطع تعلقی اور سخت دشمنی کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں ،جب کہ بعض اخلاقی یاغیرموثر اصول سمجھ کر اس کو نظر انداز کر دیتےہیں۔

آرٹیکل تحریر: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر : یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

Non-Allegiance and Interfaith Relations: A Quranic and Prophetic Perspective  )Abstratct)

The concept of Non-allegiance (Adem-e-Muwālāt) in Islam represents a foundational Qur’anic and Prophetic principle governing the nature of relationships between Muslims and non-Muslims. It does not advocate absolute social isolation or unconditional hostility; rather, it establishes a balanced framework that distinguishes between religious loyalty and permissible forms of social, political, and economic interaction. This study aims to examine the concept of non-allegiance in the light of the Qur’an and Sunnah, focusing on its textual basis, underlying causes, legal boundaries, and practical implications. The research adopts an analytical and descriptive methodology by examining relevant Qur’anic verses, Prophetic traditions, and the practice of the Companions (Saaba). It highlights that the Qur’anic notion of wala’ (allegiance) is closely linked with faith, ideological alignment, and collective security, while bara’ (disassociation) applies only in contexts where religious, ideological, or political hostility exists. The study further demonstrates that the Qur’an explicitly allows justice, kindness, and peaceful coexistence with non-hostile non-Muslims, thereby establishing a framework of conditional and contextual relationships rather than absolute separation. The study concludes that Adem-e-Muwālāt is a principled and balanced doctrine that ensures both the preservation of Islamic identity and constructive engagement with other communities in a pluralistic world.

مکمل آرٹیکل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں

ریسرچ جرنل کی ویب سائٹ کے لیے یہاں کلک کریں

 

غلام احمد پرویز کا تصور مرکز ملت | A Critical review of Ghulam Ahmad Pervez's concept of "Makraz-e-Millat"

غلام احمد پرویز کا تصور مرکز ملت

 قرآن مجید کی تعلیمات کا کامل ادراک نبی کریم ﷺ کی احادیث اور سیرت کے بغیر نا ممکن ہے۔ غلام احمد پرویز چونکہ قرآن مجید کی تفسیر میں احادیث نبویہ کو حجت کا درجہ نہیں دیتے۔ ان کے ہاں عربی لغت، ادب جاہلی اور اپنی عقل و فہم ہی قرآن مجید کی تشریح و توضیح میں حجت ہوتی ہیں۔ اسی عقلی بنیاد پر قرآن مجید میں موجود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  کی اطاعت کو ایک اصطلاح قرار ددیتے ہیں، جس کا حقیقی مطلب نظام خداوندی یا قرآنی نظام حکومت کی اطاعت  ہے اور اسی نظام خداوندی اور قرآنی نظام حکومت کی سنٹرل اتھارٹی کو’’مرکز  ملت‘‘قرار دیا جاتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت درحقیقت مرکز  ملت کی اطاعت ہے۔اور  مرکز  ملت کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا قائم مقام سمجھتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں مرکز  ملت کے حوالے سے  موصوف کے نظریات  سے استفادہ کر کے مرکز  ملت کا تصور واضح کیا جائے گا اور قرآن مجید اور احادیث نبویہ  کی روشنی میں اس کا تنقیدی جائزہ لیا جائے  گا۔

آرٹیکل  تحریر: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

Abstract

The Holy Quran is revealed by Allah Almighty to Prophet Muhammad over approximately 23 years. Allah Almighty has given the command in the Quran Majeed for people to obey His Messenger. According to Ghulam Ahmad Parwez, the Quran Majeed states that obedience to Allah and His Messenger means obedience to the central authority of the Government named (Markaz e Millt). The Quran provides fundamental principles, such as prayer, fasting, pilgrimage, etc., but the detailed regulations are subject to the discretion of Markaz-e-Millat, who can adapt them according to the contemporary circumstances. Any changes made by the central authority in these regulations are considered legitimate and in accordance with the divine will. This study argues that the obedience to Allah and His Messenger mentioned in the Quran does not refer to obedience to the central authority of the Muslim community, known as "Markaz-e-Millat" (Center of the Community). Numerous Quranic verses warn against disobedience and denial of the Prophet. The Prophet's actions and behavior serve as a complete model for the community, and faith in him is a fundamental requirement of the religion. In conclusion, the idea that obedience to Allah and His Messenger essentially means obedience to the central authority of the Muslim community is an interpretation based on rational understanding but is ultimately unacceptable.

آرٹیکل ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں

جرنل کی ویب سائٹ کے لیے کلک کریں

 

An Analytical Study of al-Wāḥidī's Asbāb al-Nuzūl | اسباب النزول للواحدی کا تجزیاتی مطالعہ

  An Analytical Study of al-Wāḥidī's Asbāb al-Nuzūl

This analytical study focuses on the classical work Asbāb al-Nuzūl by Imam Abu al-Hasan Ali ibn Ahmad al-Wahidi (d. 468 AH), one of the earliest systematic compilations of the causes of Quranic revelation. The research explores the structure, methodology, sources, and scholarly impact of the text, while critically examining its reliability, narrational chains, and interpretive value in the field of tafsir (Quranic exegesis).The study investigates how al-Wahidi collected reports related to specific verses' historical and contextual backgrounds and how he distinguished between authentic and weak narrations. It also evaluates the jurisprudential, linguistic, and theological implications of these reports, and how understanding asbāb al-nuzūl contributes to the precise application and interpretation of the Qur’anic message.Furthermore, this paper analyzes criticisms raised by later scholars regarding al-Wahidi’s approach, such as overreliance on single chains, lack of critical hadith evaluation, and occasional interpretive limitations. The research concludes that while Asbāb al-Nuzūl remains a foundational and pioneering work, it must be studied alongside broader exegetical and hadith traditions for a more balanced understanding of Quranic revelation.

Research Article by Muhammad Sohail Arif Moeeni (PHD Scholar UoE)

To Download Article Click Here

Journal Website

ہدایت کی راہ کا غمخوار: وہ درد جو نبی ﷺ کے سینے میں موجزن تھا | Prophet Muhammad grief on disbelief

ہدایت کی راہ کا غمخوار: وہ درد جو نبی ﷺ کے سینے میں موجزن تھا:

تحقیق و تدوین: محمد سہیل عارف معینیؔ

انسان جب حق کو پہچان لیتا ہے تو اس کی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ دوسروں کو بھی حق کی تلقین کرے، انہیں سچائی کا راستہ دکھائے اور گمراہی سے بچانے کی کوشش کرے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس شخص کو حق کی بات سمجھائی جاتی ہے وہ اپنی ہٹ دھرمی، تعصب یا جہالت کی وجہ سے اس بات کو قبول نہیں کرتا، نہ غور و فکر کرتا ہے اور نہ سچ کو ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے، بلکہ الٹا حق بات ہی کی تردید کرنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں جو شخص حق کو جانتا ہے اور اخلاص کے ساتھ دوسرے کو سمجھا رہا ہوتا ہے، اس کے دل میں ایک فطری طور پر غم، بوجھ، قلق اور دکھ پیدا ہوتا ہے۔ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک شخص سچائی کو پا سکتا تھا مگر اپنی ضد اور جہالت کی وجہ سے محروم رہ گیا۔

یہ کیفیت کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہی کیفیت نبی کریم ﷺ پر بھی طاری ہوتی تھی۔ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کی وحدانیت، سچائی اور ہدایت کی طرف بلاتے تھے، مگر بہت سے لوگ انکار کر دیتے تھے، حق کو ماننے سے انکار کر دیتے تھے، تو اس بات کا آپ ﷺ کو بہت غم ہوتا تھا اور آپ ﷺ کا دل رنجیدہ ہو جاتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو تسلی دی، محبت بھرے الفاظ میں دلداری کی، اور بار بار فرمایا کہ آپ اتنا غم نہ کریں، ہدایت دینا آپ کا کام نہیں بلکہ اللہ کا کام ہے، آپ کا کام صرف حق بات پہنچا دینا ہے۔

یہ آیات صرف نبی کریم ﷺکے لیے تسلی نہیں تھیں، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہیں جو حق کی دعوت دیتا ہے اور لوگوں کے انکار پر دل گرفتہ ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ رنجیدہ نہ ہوں، اپنے دل پر بوجھ نہ لیں، بلکہ ان قرآنی آیات کو پڑھیں، ان کا کثرت سے ورد کریں اور اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کی ہدایت کی دعا کرتے رہیں۔ ہدایت دلوں میں ڈالنا اللہ کا کام ہے، انسان کا کام صرف اخلاص کے ساتھ حق بات پہنچا دینا ہے۔

 

1.      فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا (سورۃ الکھف:6)

    تو شاید آپﷺ ان کے پیچھے اپنی جان دے دیں گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے افسوس کرتے ہوئے۔

2.      لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(سورۃ الشعراء:3)

    شاید آپ ﷺ اپنی جان دے دیں گے اس غم کی وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

3.      فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(سورۃ الفاطر:8)

    تو آپ ﷺ کی جان ان پر حسرتوں کی وجہ سے نہ جاتی رہے بے شک اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

4.      فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(سورۃ یسن:76)

  تو ان کی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں بے شک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

5.      وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ(97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (سورۃ الحجر: 98)

         اور یقینا ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کا سینہ تنگ ہوتا ہے ان کی باتوں سے جو وہ کہتے ہیں۔ تو آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور سجدہ کرنے والوں میں شامل رہیے۔

6.  قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(سورۃ الانعام:33)

           یقینا ہم جانتے ہیں کہ آپﷺ کو ہو بات ضرور غمگین کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں تو بے شک وہ آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

7.  وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ-هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(سورۃ یونس:65)

          لہذا ان کی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں بے شک ساری عزت اللہ تعالی ہی کے لیے ہے وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

8.  وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗؕ-اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(سورۃ لقمن:23)

      اور جو کفر کرے تو اس کا کفر آپ ﷺ کو غمگین نہ کر دے انہیں ہماری طرف واپس آنا ہے پھر ہم انہیں بتا دیں گے جو کچھ انہوں نے کیا ہے بے شک اللہ تعالی سینوں کے رازوں کا خوب جاننے والا ہے۔

9.  وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(سورۃ النحل:127)

اور آپﷺ صبر کیجیے اورآپ ﷺ کا صبر اللہ تعالی ہی کی توفیق سے ہے اور آپ ﷺ ان پر غم نہ کریں اور نہ ہی تنگی محسوس کریں اس سے جو وہ چالیں چلتے ہیں۔

10.  یٰٓاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُـوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ(سورۃ المائدہ:41)

           اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کو وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں تیزی دکھاتے ہیں ان میں سے جنہوں نے اپنے منہ سے کہاکہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے۔

 

تحقیق، سیرت اور فکرِ عصر: المعین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے نمایاں منصوبے | Al Moeen Research Institute’s Major Projects

Al Moeen Research Institute for Islamic Ideology

 ہر دور کے اپنے فکری، سماجی اور اعتقادی چیلنجز ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں اسلام کو محض عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے یا پھر جدید افکار کے نام پر اس کی اصل روح سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں علمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق، بصیرت اور فکری توازن کے ساتھ اسلام کی درست تعبیر پیش کریں۔

 Al Moeen Research Institute for Islamic Ideology اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت درج ذیل اہم پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے:

 

📖 1. سیرت النبی ﷺ پر جامع تحقیقی کتاب (نبی کریم ﷺ کی سماجی زندگی کے تناظر میں)

وضاحت:       اس پراجیکٹ میں رسول اللہ ﷺ کی عام سماجی زندگی—گھر، بازار، معاشرہ، غیر مسلموں سے معاملات، بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے ساتھ برتاؤ—کو تحقیقی انداز میں پیش کیا جائے گا۔

 ضرورت و اہمیت:       آج کی دنیا کو ایک ایسے عملی نمونے کی ضرورت ہے جو عبادات کے ساتھ ساتھ سماجی زندگی میں بھی قابلِ تقلید ہو، اور سیرتِ نبوی ﷺ اس کی کامل مثال ہے۔

 

📚 2. عصری الحادی فکر کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ (جامع کتاب کی صورت میں)

 وضاحت:      اس پراجیکٹ میں جدید الحادی افکار، سیکولرزم، نیچرلزم اور مذہب بیزاری کے فکری اسباب کا علمی و مدلل تجزیہ پیش کیا جائے گا۔

 ضرورت و اہمیت:          نوجوان نسل فکری سطح پر شدید سوالات کا سامنا کر رہی ہے، جن کے جواب جذبات نہیں بلکہ تحقیق اور دلیل سے دیے جانے کی ضرورت ہے۔

 

🎥 3. یوٹیوب چینل پر آن لائن تعلیمی پروگرام :

وضاحت:     تحقیقی، فکری اور تعلیمی موضوعات پر منظم آن لائن پروگرامز، لیکچرز اور گفتگوؤں کا انعقاد۔

 ضرورت و اہمیت: ڈیجیٹل میڈیا آج سب سے مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے علمی پیغام وسیع حلقے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

 

🔴 4. عصری الحادی فکر پر ہفتہ وار لائیو سیشنز

وضاحت: ہر ہفتے لائیو سیشنز جن میں الحاد، شکوک و شبہات اور جدید فکری اعتراضات پر براہِ راست گفتگو اور سوال و جواب ہوں گے۔

 ضرورت و اہمیت: براہِ راست مکالمہ نوجوانوں کے ذہنی سوالات کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ناگزیر ہے۔

 

📜 5. یوٹیوب پر ماہانہ حدیثِ مبارکہ سیشنز

 وضاحت: ہر ماہ منتخب احادیث کی تشریح، پس منظر اور عملی تطبیق پر تحقیقی نشستیں۔

 ضرورت و اہمیت:       حدیثِ نبوی ﷺ کو محض روایت نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

 

️ 6. یوٹیوب پر ماہانہ ’’مزاجِ اسلام‘‘ سیشنز

وضاحت:      اسلام کے فکری، اخلاقی اور اعتدالی مزاج پر گفتگو، تاکہ دین کو انتہاؤں سے ہٹ کر سمجھا جا سکے۔

 ضرورت و اہمیت:       آج اسلام کو یا شدت پسندی سے جوڑا جاتا ہے یا بے روح بنا دیا جاتا ہے—جبکہ اصل اسلام توازن اور حکمت کا دین ہے۔

 

🌱 اختتامی کلمات

 ہم یقین رکھتے ہیں کہ:    تحقیق، اخلاص اور فکری دیانت ہی امت کی حقیقی خدمت ہے۔ ہم تمام اہلِ علم، طلبہ اور فکری شعور رکھنے والے افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ اس علمی سفر کا حصہ بنیں۔

 

The Existence of Allah: Evidence from the Holy Qur’an, Ilm al-Kalam, and Philosophical Arguments

تحقیق و تدوین: زین العابدین  (پی ایچ ڈی سکالر، المعین ریسرچ انسٹیٹیوٹ  فار اسلامک آئیڈیالوجی، لاہور)

وجودِ باری تعالیٰ قرآن مجید، علمُ الکلام اور فلسفیانہ دلائل کی روشنی میں

قرآن دلیل دیتا ہے یا یاد دلاتا ہے؟

یہ بات پہلے طے کر لی جائے کہ قرآن، یونانی منطق کی طرح خدا کو ثابت نہیں کرتا بلکہ قرآن انسان کو اس کے بھولے ہوئے علم کی طرف واپس لاتا ہے۔ اسی لیے قرآن کا اسلوب کہتا ہے:  اَفَلَا تَعْقِلُونَ – اَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ – اَفَلَا يَنْظُرُونَ  یہ زبان علم الکلام کی ہے، یہ اسلوب فلسفۂ فطرت کا ہے اور یہ اپیل عقلِ سلیم کی ہے۔

 اوّلین دلیل: دلیلِ حدوثِ عالم:  قرآن سوال قائم کرتا ہے، مقدمہ نہیں: اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ (سورۃ الطور:۳۵) (کیا یہ بغیر کسی سبب کے پیدا ہو گئے؟ یا خود اپنے خالق ہیں؟) یہ آیت ایک مکمل منطقی قیاس ہے۔

 کبریٰ (Major Premise): ہر حادث (جو نہ تھا پھر ہوا) کسی مُحدِث کا محتاج ہے۔

 صغریٰ (Minor Premise): کائنات حادث ہے (تغیر، زمان، ترکیب، زوال اس پر شاہد ہیں)۔

 نتیجہ (Conclusion): کائنات کا ایک غیر حادث، قدیم، واجب الوجود مُحدِث ہے ۔

 یہی دلیل امام ابوالحسن اشعری، امام ماتریدی اور امام غزالی کے علم الکلام کی بنیاد ہے۔

دوسری دلیل: دلیلِ امکان و احتیاج (Contingency Argument):      قرآن اعلان نہیں، تجزیہ کرتا ہے: یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (سورۃ الفاطر: 15) فلسفیانہ مفہوم: ہر ممکن الوجود، محتاج ہوتا ہے، محتاج خود قائم نہیں رہ سکتا اور تسلسلِ علل (Infinite Regress) محال ہے ۔ لہٰذا ایک ایسی ہستی لازم ہے جو غنی بذاتہ ہو ، جو علت نہ ہو بلکہ علتِ اولیٰ ہو یہی ہے: اللہُ الصَّمَد(سورۃ  الاخلاص:۲)۔

تیسری دلیل: دلیلِ نظم (Teleological Argument):   قرآن مشاہدہ پیش کرتا ہے: مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ (سورۃالملک: 3) منطقی نکتہ: نظم بغیر علم کے ممکن نہیں ، تناسب بغیر قصد کے نہیں ہوتا ، مقصد بغیر ارادے کے پیدا نہیں ہوتا لہٰذا یہ کائنات Blind Chance نہیں بلکہ Wise Choice کا نتیجہ ہے۔

 چوتھی دلیل: دلیلِ وحدانیت (Argument against Polytheism):  قرآن ایک عقلی فرضی صورت قائم کرتا ہے: لَوْ كَانَ فِیْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا(سورۃ الأنبیاء: 22) فلسفیانہ تجزیہ: دو مستقل ارادوں سے تصادم پیدا ہوتا ہے اور تصادم فساد  کا ہونا لازم آتا ہے اور کائنات کے نظم میں  فساد کا نہ ہونا ہی وحدتِ ارادہ   اور نظم واحد کی دلیل ہےجس کا مطلب  اور نتیجہ ہے کہ  مدبر واحد موجود ہے اور وہ تنہا و یکتا ہے۔

 پانچویں دلیل: دلیلِ فطرت (Innate Knowledge Argument) :     قرآن کہتا ہے: فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاسورۃالروم: 30)۔ امام غزالی فرماتے ہیں: "  وجود خدا بدیہی ہے، نظری نہیں " شک تعلیم سے آتا ہے، یقین فطرت سے” اسی لیے بچہ خدا کو جانتا ہے ، فلسفہ بعد میں آ کر انکار سکھاتا ہے۔

 چھٹی دلیل: دلیلِ نفس و شعور (Argumentfrom Consciousness):               قرآن سوال کرتا ہے: وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (سورۃالذاریات: 21 )۔         فلسفیانہ نکتہ: مادہ شعور نہیں رکھتا ۔ شعور، ارادہ اور اخلاق محض کیمیاوی تعامل نہیں لہٰذا انسان کا باطن ایک غیر مادی، علیم خالق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔

قرآنی اسلوب کی عظمت (اہم نکتہ) قرآن خدا کو دلیل سے گھڑتا نہیں ۔ خدا کو مفروضہ بنا کر ثابت نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے: تم جانتے ہو، بس یاد کرو   سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِهِمْ (سورۃفصّلت: 53)

 اختتامیہ: علم الکلام کا خلاصہ ایک جملے میں کائنات کا ہونا اس کے نہ ہونے سے زیادہ اللہ تعالی کے ہونے کو لازم کرتا ہے یہی عقل کا فیصلہ ،فطرت کی گواہی، قرآن کا اسلوب اور متکلمین کا طریقہ ہے۔