اصل خسارہ کیا ہے؟ کہیں
ہمارے نیک اعمال بھی تو ضائع نہیں ہو رہے!
ہماری سب سے بڑی خوش فہمی یہ ہو سکتی ہے کہ ہم
اپنے اعمال کو نیک سمجھتے رہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ اعمال ہمارے لیے نفع
بخش ثابت نہ ہوں۔
قرآنِ مجید بار بار سابقہ اقوام کے واقعات کیوں بیان
کرتا ہے؟ کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر، کبھی حضرت نوح، حضرت
ہود، حضرت صالح اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت اور ان کی اقوام کے
انجام کا بیان، کبھی کسی قوم کی طاقت و قوت کا تذکرہ اور کبھی اس کی تباہی کے
اسباب کی وضاحت۔ آخر قرآنِ مجید ہمیں یہ واقعات بار بار کیوں سناتا ہے؟ کیا محض
تاریخ سے واقفیت مقصود ہے؟ کیا ان اقوام کے حالات جان لینا ہی ان واقعات کا حاصل
ہے؟ نہیں! ان واقعات میں ہمارے لیے ایک بہت بڑی نصیحت پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں
سابقہ اقوام کے حالات بتاتا ہے تاکہ ہم ان کی غلطیوں کو پہچانیں، ان کے انجام سے
عبرت حاصل کریں اور کہیں ہم بھی وہی راستہ اختیار کرکے اپنے اعمال کو برباد نہ کر
بیٹھیں۔
سابقہ اقوام کا انجام اور
ہماری خوش فہمی: سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: كَالَّذِیْنَ
مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ
اَوْلَادًاؕ-فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ
فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ
بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْاؕ-اُولٰٓىٕكَ
حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ توبہ:69)ترجمہ: تمہارا حال ان
لوگوں جیسا ہے جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں زیادہ
تھے۔ پھر انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، سو تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا،
جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا تھا، اور تم بھی اسی طرح کی
باتوں میں پڑ گئے جس طرح وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں
ضائع ہوگئے، اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
غور کیجیے!
قرآنِ مجید ہمیں صرف یہ نہیں بتا رہا کہ سابقہ اقوام طاقتور تھیں، ان کے پاس مال و
دولت تھی اور ان کی اولادیں زیادہ تھیں۔ اصل توجہ اس بات پر ہے کہ انہوں نے
اپنی زندگیوں کو کس طرح گزارا، کن رویوں کو اختیار کیا اور کس طرح ان کے اعمال
ضائع ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ کہیں تم بھی انہی کی روش اختیار
نہ کرلو! یہاں رک کر اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے: کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے
سوچا ہے کہ ہمارے اعمال کہیں ایسے تو نہیں کہ ہم انہیں نیک سمجھ رہے ہوں، لیکن ان
کے ساتھ ہمارے رویے، ہماری نیتیں اور ہمارے معاملات انہیں ہمارے لیے بے فائدہ بنا
رہے ہوں؟
ہم
نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں، مسجدوں کی خدمت کرتے ہیں، دینی
کاموں میں حصہ لیتے ہیں، لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں اور خود کو نیک، سمجھ دار اور
راہِ راست پر چلنے والا سمجھتے ہیں۔ لیکن کیا صرف ہمارا اپنے آپ کو نیک سمجھ لینا
اس بات کی ضمانت ہے کہ ہم واقعی اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیاب بھی ہیں؟ ہرگز نہیں! ہمیں
اپنے اعمال کی قدر بھی کرنی ہے اور ان کے بارے میں خوفِ خدا کے ساتھ اپنا محاسبہ
بھی کرنا ہے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ انسان اپنے خسارے کو بھی کامیابی سمجھتا رہے
قرآنِ
مجید ایک اور مقام پر ہمیں جھنجھوڑتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْ
هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ۔ اَلَّذِیْنَ
ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ
صُنْعًا (سورۃ الکھف:103-104)ترجمہ: فرما دیجیے، کیا
ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن
کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی، جبکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے
ہیں۔
یہ
آیات انسان کو اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ خسارہ صرف یہ نہیں کہ انسان
برے کام کرے اور اسے معلوم بھی ہو کہ وہ غلط راستے پر ہے۔ ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہے
کہ انسان غلطی پر ہو، اس کی کوششیں ضائع ہو رہی ہوں، لیکن وہ اپنے آپ کو بالکل
درست سمجھ رہا ہو۔ اسے اپنے کردار میں کوئی خرابی دکھائی نہ دے، اپنے رویے میں کوئی
نقص محسوس نہ ہو، اپنے معاملات پر کوئی سوال پیدا نہ ہو اور وہ اپنی نیکیوں کی بنیاد
پر خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا رہے۔
ذرا سوچیے!
اگر انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہی نہ ہو تو اصلاح کا دروازہ کیسے کھلے گا؟ اگر
وہ اپنے ہر عمل کو درست اور ہر فیصلے کو بہترین سمجھتا رہے تو وہ اپنی اصلاح کیوں
کرے گا؟ اسی لیے قرآنِ مجید کے واقعات محض دوسروں پر تنقید کرنے کے لیے نہیں، بلکہ
اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ہیں۔ ان سے دوسروں کے انجام کا علم حاصل کرنے کے
ساتھ اپنے انجام کی فکر بھی پیدا ہونی چاہیے۔ آئیے! دوسروں کے اعمال کا حساب لگانے
سے پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔ اپنے کردار پر نظرِ ثانی کریں۔ اپنی نیتوں کو
پرکھیں۔ اپنے معاملات کو دیکھیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو کسی پر احسان نہیں کریں
گے، بلکہ اپنا ہی بھلا کریں گے۔
نعمت
ملے تو شکر، غلطی ہو تو اعتراف
قرآنِ مجید ہمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک
نہایت خوب صورت واقعہ سناتا ہے۔ جب آپ علیہ السلام نے ملکہ سبا کا تخت اپنے سامنے
موجود دیکھا تو فرمایا: قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ
رَبِّیْ ﱎ لِیَبْلُوَنِیْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ-وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ
لِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ (سورۃ النمل:40)ترجمہ:
یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ اور
جو شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو
بے شک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہے۔
حضرت
سلیمان علیہ السلام کو عظیم سلطنت عطا ہوئی، بے مثال اقتدار ملا اور غیر معمولی
نعمتیں حاصل ہوئیں، لیکن آپ نے انہیں اپنی قابلیت کا کمال قرار دینے کے بجائے اللہ
تعالیٰ کا فضل کہا۔ ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی سامنے رکھا کہ یہ نعمتیں آزمائش ہیں:
اب دیکھنا یہ ہے کہ انسان شکر کرتا ہے یا ناشکری! یہی وہ نگاہ ہے جو انسان کو غرور
سے بچاتی ہے۔ جب اسے کوئی نیکی کرنے کی توفیق ملے تو وہ اس پر اترائے نہیں، بلکہ
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ جب اسے اپنی غلطی معلوم ہو تو اسے چھپانے اور اپنے آپ
کو درست ثابت کرنے کے بجائے اصلاح کی فکر کرے۔ اگر ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں،
اپنی کوتاہیوں کو پہچانیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی اصلاح کی توفیق پائیں
تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ اس پر شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں
اپنی اصلاح کا احساس عطا فرمایا اور ہمیں ممکنہ خسارے سے بچنے کا راستہ دکھایا۔
انبیائے
کرام علیہم السلام بھی اللہ کی مغفرت کے طلبگار رہے
اپنی غلطی کا اعتراف، اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
اور اس کی مغفرت کی طلب، یہ مومن کی زندگی کے بنیادی اوصاف ہیں۔ جب حضرت آدم علیہ
السلام اور حضرت حوا علیہا السلام نے درخت کا پھل کھایا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا: قَالَا
رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا
لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ
الاعراف:23)ترجمہ: دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم
نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ
فرمایا تو ضرور ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
غور
کیجیے! انہوں نے اپنے لیے کوئی عذر پیش نہیں کیا،
اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت کے محتاج بن کر اس کے حضور عرض گزار ہوئے۔ اسی طرح
حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا: وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ
تَرْحَمْنِیْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ ھود:47)ترجمہ:
اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں
سے ہوجاؤں گا۔ یہ دعائیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ بندے کو اپنی نیکیوں پر مغرور ہونے کے
بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار رہنا چاہیے۔ وہ اپنے اعمال بجا لائے، نیکی کی
کوشش کرے، گناہوں سے بچے، لیکن اس کے دل میں یہ احساس بھی رہے کہ اسے اللہ تعالیٰ
کی مغفرت اور رحمت کی ضرورت ہر لمحہ ہے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے اتنی
نمازیں پڑھ لی ہیں، اتنے روزے رکھ لیے ہیں، اتنے دینی کام کرلیے ہیں، اب ہماری
نجات یقینی ہے۔ ہمیں اپنی نیکیوں کو جاری رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے قبولیت مانگنی
چاہیے اور اپنی کوتاہیوں پر مغفرت طلب کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ
کی رحمت اور فضل کو کون روک سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کرنے کا اختیار
کسی انسان کے پاس نہیں۔ وہ جس پر فضل فرمائے، اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس تکلیف
کو وہ دور کرنا چاہے، کوئی اس کے فیصلے کے مقابلے میں مستقل اختیار نہیں رکھتا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ
بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ-وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ
لِفَضْلِهٖ-یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ-وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
(سورۃ یونس:107)ترجمہ: اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف
پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے لیے بھلائی
چاہے تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے
اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔ یہی حقیقت ہمیں اللہ تعالیٰ
کی رحمت سے امید وابستہ رکھنے کا درس دیتی ہے۔ کسی کی طاقت، مخالفت، ناراضی یا
سازش اللہ تعالیٰ کے فضل پر غالب نہیں آسکتی۔ اس لیے ہمیں لوگوں کی خوشنودی کے پیچھے
اپنی آخرت برباد کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ لیکن
یہاں ایک اور پہلو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کا مطلب یہ
نہیں کہ انسان اپنے اعمال کی اصلاح سے بے نیاز ہوجائے۔ رحمت کی طلب کے ساتھ توبہ،
نیک عمل، حقوق العباد کی ادائیگی اور اپنے کردار کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ ہمیں اللہ
تعالیٰ سے مغفرت مانگتے رہنا چاہیے، اس کی رحمت کے طلبگار رہنا چاہیے اور ایسے رویوں
سے بچنا چاہیے جو ہمیں اس کی رحمت سے دور کردیں۔
کون
سا رویہ انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کرتا ہے؟
آئیے، ایک اہم سوال پر غور کرتے ہیں: ایسا کون
سا عمل یا رویہ ہے جو انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی کا سبب بن سکتا
ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا
يَرْحَمُ اللهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ(صحیح
البخاری:7376) ترجمہ: اللہ اس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ کتنی
واضح تعلیم ہے! جو شخص خود اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی
مخلوق کے ساتھ رحم و شفقت کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری
غلطیاں معاف فرمائے، ہماری پریشانیاں دور کرے، ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے اور
ہمارے ساتھ کرم کا معاملہ کرے۔ لیکن کیا ہم خود دوسروں کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتے
ہیں؟ کیا ہم کسی کی مجبوری کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم کمزور کے ساتھ نرمی کرتے ہیں؟ کیا
ہم کسی کی غلطی پر اصلاح کا موقع دیتے ہیں؟ کیا ہم کسی محتاج کی ضرورت کا احساس
کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ماتحتوں، شاگردوں، اہلِ خانہ، پڑوسیوں اور معاشرے کے کمزور
افراد کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے لیے معافی چاہتے
ہوں، مگر دوسروں کو معاف کرنے کے لیے تیار نہ ہوں؟ ہم اپنے لیے نرمی پسند کرتے
ہوں، لیکن دوسروں کے لیے ہمارے لہجے میں سختی ہو؟ ہم اپنی مجبوریوں کو سمجھتے ہوں،
لیکن دوسروں کی مجبوریوں کو نظرانداز کردیتے ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
تعلیم ہے: ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ
مَنْ فِي السَّمَاءِ(جامع الترمذی:1924) ترجمہ: زمین والوں
پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عبادت
گزار ہونے کے ساتھ رحم دل ہونا بھی ضروری ہے۔ دین داری کا اثر ہمارے رویوں میں
ظاہر ہونا چاہیے۔ اگر ہماری عبادات ہمیں مخلوقِ خدا کے ساتھ شفقت، عدل، خیر خواہی
اور حسنِ سلوک کی طرف نہیں لے جارہیں تو ہمیں اپنے دینی طرزِ عمل کا سنجیدگی سے
جائزہ لینا چاہیے۔
سخت
دل ہونا بھی ایک بڑا خسارہ ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں دل
کی نرمی، رحم اور شفقت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انسان جب مسلسل غفلت، بے جا گفتگو،
تکبر، بدزبانی، دوسروں کی تحقیر اور بے رحمی میں مبتلا رہتا ہے تو اس کے دل پر اس
کے برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَنِ
ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
" لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ
الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَإِنَّ أَبْعَدَ
النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي (جامع ترمذی:2411)ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام
دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا۔ذرا
اپنے دل کو دیکھیے! کیا قرآن سن کر دل میں اثر پیدا ہوتا ہے؟ کیا کسی محتاج کو
دیکھ کر احساس جاگتا ہے؟ کیا کسی کی تکلیف ہمیں بے چین کرتی ہے؟ کیا کسی کی غلطی دیکھ
کر اصلاح کی فکر پیدا ہوتی ہے یا ہم اس کی رسوائی سے خوش ہوتے ہیں؟ دل کی نرمی یہ
نہیں کہ انسان حق و باطل میں فرق کرنا چھوڑ دے یا غلطی پر خاموش رہے۔ بلکہ دل کی
نرمی یہ ہے کہ حق بات کہتے ہوئے بھی خیر خواہی باقی رہے، غلطی کی اصلاح کرتے ہوئے
بھی عدل قائم رہے اور کسی کو اس کی لغزش کی وجہ سے ذلیل کرنے کے بجائے اس کی اصلاح
کی خواہش ہو۔ عبادت کا حسن بھی یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے تو اس کی
مخلوق کے ساتھ تکبر نہ کرے۔ اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو تو وہ دوسروں کے حقوق کے
بارے میں بھی حساس ہو۔ وہ اپنی مغفرت کی دعا کرے تو دوسروں کے لیے بھی خیر چاہے۔
اللہ
ہمارا بھی ہے اور دوسروں کا بھی
یہ
بات ہمارے لیے بہت اہم ہے کہ جس اللہ تعالیٰ کی عبادت ہم کرتے ہیں، وہی اللہ
دوسروں کا بھی رب ہے۔ وہ سب کے اعمال، نیتوں، مجبوریوں اور حالات سے واقف ہے۔ اس لیے
ہم اپنی عبادات کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا جواز نہیں بنا سکتے۔ نماز کا تعلق
اللہ تعالیٰ سے ہے، روزے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے، تلاوت اور ذکر بھی اللہ تعالیٰ
کی عبادت ہیں۔ لیکن ان عبادات کے ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ کسی
پر ظلم کرنا، کسی کا حق دبانا، کسی کی عزت پامال کرنا، کسی کمزور کو ستانا یا کسی
کے ساتھ ناانصافی کرنا محض اس وجہ سے درست نہیں ہوجاتا کہ انسان بظاہر عبادت گزار
ہے۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا:
الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: " إِنَّ
الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ،
وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا،
وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا
مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ
أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
(صحیح مسلم:6579)ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟“ صحابہ نے کہا: ہمارے
نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپ نے فرمایا: ”میری
امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس
طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے اس کو گالی دی ہو گی، اس پر بہتان لگایا ہو گا، اس
کا مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں
میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے
اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے
کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔اس حدیث میں
ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ نیک اعمال یقیناً عظیم نعمت ہیں، لیکن بندوں کے
حقوق کی پامالی کو معمولی سمجھنا بہت خطرناک ہے۔ انسان کو اپنی عبادات کے ساتھ
اپنے معاملات کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ ہم نماز پڑھتے
ہیں، اس لیے ہمارا سخت لہجہ قابلِ معافی ہے؛ چونکہ ہم روزہ رکھتے ہیں، اس لیے کسی
کی دل آزاری کوئی اہم بات نہیں؛ چونکہ ہم دینی کام کرتے ہیں، اس لیے دوسروں کے
حقوق کی ادائیگی ہماری ذمہ داری نہیں۔ عبادت ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ
ہے، اور اس قرب کے تقاضوں میں مخلوق کے ساتھ عدل، رحم اور حسنِ سلوک بھی شامل ہیں۔
کہیں
ایسا نہ ہو کہ موت کے وقت ہمیں اپنی نیکیوں پر ناز ہو، مگر اصل سوال کا جواب نہ ہو
ذرا تصور کیجیے کہ انسان دنیا سے رخصت ہو رہا
ہے۔ اس کی نگاہ کے سامنے اس کی پوری زندگی ہے۔ اسے اپنی نمازیں یاد آرہی ہیں، اپنے
روزے یاد آرہے ہیں، اپنی تلاوتیں یاد آرہی ہیں، مسجد کی خدمت اور دینی کام یاد
آرہے ہیں۔ وہ سوچ رہا ہے کہ میں نے اتنے نیک کام کیے، اتنی عبادات کیں، اتنی کوششیں
کیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تھا؟ کیا ان
اعمال میں اخلاص تھا؟ کیا ہم نے ان کے ساتھ اپنے کردار کی اصلاح بھی کی؟ کیا ہم نے
لوگوں کے حقوق ادا کیے؟ کیا ہم نے اپنی زبان، اپنے رویے اور اپنے دل کی حفاظت کی؟ یہاں
انسان کو اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے، کیونکہ نیکیوں کی کثرت پر خوش ہونا اپنی
جگہ، لیکن ان کی قبولیت کی فکر اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہمیں کسی کے بارے میں یہ فیصلہ
نہیں کرنا کہ اس کے اعمال ضائع ہوگئے یا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوگیا۔ یہ
فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ہمارا کام اپنی اصلاح کرنا، دوسروں کے لیے خیر
چاہنا، حق بات کو حکمت سے بیان کرنا اور اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرنا ہے۔ اصل
خطرہ دوسروں کے انجام پر حکم لگانا نہیں، بلکہ اپنے انجام سے غافل ہوجانا ہے۔
خسارے
سے بچنے کا راستہ کیا ہے؟
خسارے
سے بچنے کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس ہونی چاہیے۔ جب اسے
اپنی غلطی کا احساس ہوگا، تبھی وہ اس کی اصلاح کرسکے گا۔ جب وہ اپنی نیکیوں کے
ساتھ اپنی کوتاہیوں کو بھی دیکھے گا، تبھی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ اور
مغفرت کی دعا کرے گا۔ ہمیں چاہیے کہ:
اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں اور نیکیوں کی
قبولیت کے لیے دعا کریں۔
قرآنِ مجید کو صرف دوسروں کی اصلاح کے لیے نہیں،
اپنی اصلاح کے لیے بھی پڑھیں۔
سابقہ اقوام کے واقعات سے عبرت حاصل کریں اور
ان کی غلطیوں کو دہرانے سے بچیں۔
اپنی زبان، رویوں، معاملات اور نیتوں کا
باقاعدگی سے محاسبہ کریں۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھیں، اس کی
مغفرت طلب کریں اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
مخلوقِ خدا کے ساتھ رحم، شفقت، عدل اور خیر
خواہی کا معاملہ کریں۔
اگر کسی کا حق مارا ہو یا کسی کو تکلیف پہنچائی
ہو تو توبہ کے ساتھ اس کی تلافی اور حق کی ادائیگی کی کوشش کریں۔
یاد
رکھیے! خود احتسابی کا مقصد مایوسی نہیں، بلکہ اصلاح ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت
سے ناامید نہیں ہونا، بلکہ اس کی رحمت پر بھروسا رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا
کرنی ہیں۔
آخری
بات:
اپنے اعمال کی فکر کیجیے بات پھر وہیں آجاتی ہے
جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ قرآنِ مجید ہمیں سابقہ اقوام کے واقعات کیوں سناتا ہے؟ اس
لیے کہ ہم ان کے انجام سے سبق حاصل کریں، ان کی غلطیوں سے بچیں اور اپنے اعمال کو
ضائع ہونے سے بچانے کی فکر کریں۔ خسارہ صرف یہ نہیں کہ انسان کے پاس مال نہ رہے،
اولاد نہ رہے، اقتدار نہ رہے یا دنیا کی کامیابیاں چھن جائیں۔ ایک بہت بڑا خسارہ یہ
ہے کہ انسان اپنی زندگی نیکیوں میں گزارنے کا دعویٰ کرے، مگر اپنے اعمال کی قبولیت،
اپنے کردار کی اصلاح اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے غافل رہے۔ ہمیں یہ دیکھنا
ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کے ساتھ تکبر تو نہیں؟ کہیں ہماری عبادات کے ساتھ دوسروں
کی تحقیر تو نہیں؟ کہیں ہماری زبان پر دین کی باتیں ہیں، مگر ہمارے معاملات میں
ظلم تو نہیں؟ کہیں ہم اپنے لیے اللہ کی رحمت چاہتے ہیں، لیکن دوسروں کے لیے ہمارے
دل میں رحم نہیں؟ آئیے! اپنے اعمال پر نظرِ ثانی کریں۔ اپنے کردار کو دیکھیں۔ اپنے
دل کی کیفیت کو پرکھیں۔ جہاں غلطی ہو، اسے تسلیم کریں؛ جہاں کسی کا حق ہو، اسے ادا
کریں؛ جہاں کسی کو معاف کرنے کی گنجائش ہو، وہاں دل کو کشادہ کریں؛ اور جہاں اللہ
تعالیٰ کی نافرمانی ہو، وہاں سچی توبہ کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت حوا علیہا
السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی دعاؤں میں ہمارے لیے ایک مستقل سبق ہے کہ بندہ
اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے بغیر خسارے سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ
کے فضل کا طلبگار رہنا چاہیے، اس کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے اور ایسے اعمال و رویوں
سے بچنا چاہیے جو انسان کو اس کی رحمت سے دور کرنے کا سبب بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں
اپنی نیکیوں پر غرور کرنے کے بجائے ان کی قبولیت کی فکر عطا فرمائے، اپنی کوتاہیوں
کو پہچاننے کی توفیق دے، ہمارے دلوں کو نرم کرے، ہمیں مخلوقِ خدا کے لیے رحمت و
شفقت کا ذریعہ بنائے اور ہمارے اعمال کو دنیا و آخرت میں ہمارے لیے نفع بخش
فرمائے۔ **آمین یا رب العالمین۔**
تدوین: محمد سہیل عارف معینی (پی ایچ ڈی سکالر : یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)





