ہدایت کی راہ کا غمخوار: وہ درد جو نبی ﷺ کے سینے میں موجزن تھا | Prophet Muhammad grief on disbelief

ہدایت کی راہ کا غمخوار: وہ درد جو نبی ﷺ کے سینے میں موجزن تھا:

تحقیق و تدوین: محمد سہیل عارف معینیؔ

انسان جب حق کو پہچان لیتا ہے تو اس کی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ دوسروں کو بھی حق کی تلقین کرے، انہیں سچائی کا راستہ دکھائے اور گمراہی سے بچانے کی کوشش کرے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس شخص کو حق کی بات سمجھائی جاتی ہے وہ اپنی ہٹ دھرمی، تعصب یا جہالت کی وجہ سے اس بات کو قبول نہیں کرتا، نہ غور و فکر کرتا ہے اور نہ سچ کو ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے، بلکہ الٹا حق بات ہی کی تردید کرنے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں جو شخص حق کو جانتا ہے اور اخلاص کے ساتھ دوسرے کو سمجھا رہا ہوتا ہے، اس کے دل میں ایک فطری طور پر غم، بوجھ، قلق اور دکھ پیدا ہوتا ہے۔ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک شخص سچائی کو پا سکتا تھا مگر اپنی ضد اور جہالت کی وجہ سے محروم رہ گیا۔

یہ کیفیت کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہی کیفیت نبی کریم ﷺ پر بھی طاری ہوتی تھی۔ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کی وحدانیت، سچائی اور ہدایت کی طرف بلاتے تھے، مگر بہت سے لوگ انکار کر دیتے تھے، حق کو ماننے سے انکار کر دیتے تھے، تو اس بات کا آپ ﷺ کو بہت غم ہوتا تھا اور آپ ﷺ کا دل رنجیدہ ہو جاتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو تسلی دی، محبت بھرے الفاظ میں دلداری کی، اور بار بار فرمایا کہ آپ اتنا غم نہ کریں، ہدایت دینا آپ کا کام نہیں بلکہ اللہ کا کام ہے، آپ کا کام صرف حق بات پہنچا دینا ہے۔

یہ آیات صرف نبی کریم ﷺکے لیے تسلی نہیں تھیں، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر اس شخص کے لیے نصیحت ہیں جو حق کی دعوت دیتا ہے اور لوگوں کے انکار پر دل گرفتہ ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ رنجیدہ نہ ہوں، اپنے دل پر بوجھ نہ لیں، بلکہ ان قرآنی آیات کو پڑھیں، ان کا کثرت سے ورد کریں اور اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کی ہدایت کی دعا کرتے رہیں۔ ہدایت دلوں میں ڈالنا اللہ کا کام ہے، انسان کا کام صرف اخلاص کے ساتھ حق بات پہنچا دینا ہے۔

 

1.      فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا (سورۃ الکھف:6)

    تو شاید آپﷺ ان کے پیچھے اپنی جان دے دیں گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے افسوس کرتے ہوئے۔

2.      لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(سورۃ الشعراء:3)

    شاید آپ ﷺ اپنی جان دے دیں گے اس غم کی وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

3.      فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(سورۃ الفاطر:8)

    تو آپ ﷺ کی جان ان پر حسرتوں کی وجہ سے نہ جاتی رہے بے شک اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

4.      فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(سورۃ یسن:76)

  تو ان کی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں بے شک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔

5.      وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ(97) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ (سورۃ الحجر: 98)

         اور یقینا ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کا سینہ تنگ ہوتا ہے ان کی باتوں سے جو وہ کہتے ہیں۔ تو آپ ﷺ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے اور سجدہ کرنے والوں میں شامل رہیے۔

6.  قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ(سورۃ الانعام:33)

           یقینا ہم جانتے ہیں کہ آپﷺ کو ہو بات ضرور غمگین کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں تو بے شک وہ آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

7.  وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْۘ-اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ-هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(سورۃ یونس:65)

          لہذا ان کی باتیں آپ ﷺ کو غمگین نہ کریں بے شک ساری عزت اللہ تعالی ہی کے لیے ہے وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

8.  وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗؕ-اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(سورۃ لقمن:23)

      اور جو کفر کرے تو اس کا کفر آپ ﷺ کو غمگین نہ کر دے انہیں ہماری طرف واپس آنا ہے پھر ہم انہیں بتا دیں گے جو کچھ انہوں نے کیا ہے بے شک اللہ تعالی سینوں کے رازوں کا خوب جاننے والا ہے۔

9.  وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(سورۃ النحل:127)

اور آپﷺ صبر کیجیے اورآپ ﷺ کا صبر اللہ تعالی ہی کی توفیق سے ہے اور آپ ﷺ ان پر غم نہ کریں اور نہ ہی تنگی محسوس کریں اس سے جو وہ چالیں چلتے ہیں۔

10.  یٰٓاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُـوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ(سورۃ المائدہ:41)

           اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کو وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں تیزی دکھاتے ہیں ان میں سے جنہوں نے اپنے منہ سے کہاکہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہیں لائے۔